Zameer i Kun Fakan Hay Zindagi
EngineerDr.MohammadNiqabKhan
あらすじ
تبصرہ کتاب: ضمیر کن فکاں ہے زندگی قاسم علی شاہ استاد/مصنف/مقرر چیرمین قاسم علی شاہ فاونڈیشن لکھنے والوں کی طرف سے دیے گئے خوابوں نے معاشرے کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ لکھنے والے ہی ہمیشہ دوسروں کو نئی راہیں دکھاتے ہیں جو معاشرے میں نئی صبح کا پیغام لے کر آتی ہیں۔ ڈاکٹر محمد نقاب خان صاحب نے اپنی کتاب "ضمیر کن فکاں ہے زندگی " میں بہت خوبصورتی کے ساتھ اپنی روداد بیان کی ہے جو پڑھنے والوں کو زندگیوں پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں اپنی زندگی کے مختلف پہلوؤں جیسے ان کی بچپن سے ان تھک محنت، کامیابی حاصل کرنے کی لگن، ایمانداری، خودداری، علم حاصل کرنے کی جستجو، کرکٹ سے لگن، ہر مضمون سے متعلق کتابیں خرید کر پڑھنا اور علم کے زیور سے آشنا ہونے کو بڑی باریک بینی سے بیان کیا ہے، جو قارئین کو ایک بڑی انسپائریشن اور رہنمائی دیتے ہیں۔ اس کتاب کے کچھ موضوعات جیسے "تیرے خاک میں ہے اگر شرر"، "اللہ کی کتاب قرآن سے متعلق"، "قرآن، اقبال، علمائے کرام اور میں"، "مہمان رحمت ہوتے ہیں"، "نو سے پانچ کا نوکر"، "اچھائی برائی کا فرق"، "پاکستانی قوم کے لئے کچھ مشورے" قارئین کو فہم وبصیرت دینے کے ساتھ ساتھ فکری رہنمائی بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس کتاب کی خوبصورتی وہ تصاویر بھی ہیں جو ڈاکٹر محمد نقاب خان صاحب نے اس مواد کے ساتھ شامل کی ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی ان کی دلجمی اور دل بستگی کے ساتھ کی گئی اس محنت کو قبول فرمائے، دوسروں کو رہنمائی فراہم کرنے کا ان میں جو جذبہ ہے ، اس کو سلامت رکھے اور ان کے لیے مزید آسانیاں پیدا فرمائے۔ آمین عارف انیس مصنف آئی ایم پاسیبل، گوروں کے دیس سے اور میڈ ان کرائسس کچھ کتابیں سونگھی جاتی ہیں، کچھ پڑھی جاتی ہیں، کچھ کتابیں آپ پر بیت جاتی ہیں. ضمیر کن فکاں ہے زندگی، کچھ ایسی ہی کتاب ہے جو آپ پر بیت جاتی ہے. ڈاکٹر نقاب خان نے یہ حیرت انگیز آپ بیتی لکھ کر اردو میں ایک گراں قدر کتاب کا اضافہ کیا ہے. ڈاکٹر صاحب بونیر میں پیدا ہوئے جو ابھی بھی ایک مشکل جگہ ہے. تاہم انہوں نے فرہاد کی طرح زندگی کی نہر خود کھودی اور شکوہ شکایت کرنے کی بجائے انہوں نے اپنے تیشے کو مسلسل چلائے رکھا. ڈاکٹر صاحب نے اپنی دنیا آپ پیدا کی اور بقول اقبال، اس طرح زندوں میں شمار ہوئے. اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ کہ یہ آپ سے باتیں کرتی ہے. یہ باتیں سیدھی باتیں ہیں. ڈاکٹر صاحب نے لگی لپٹی رکھے بغیر زندگی جیسے اسے پایا، اور جیسے وہ اس سے نبرد آزما ہوئے، ایسے ہی انہوں نے بیان کردیا. ان کا طرز بیان تصنع سے پاک ہے. یہ کتاب دل سے لکھی گئی ہے اور دل میں ہی اترتی ہے. میری دعائیں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہیں. اللہ ان کے عزائم اور ارادوں میں برکت دیں. آمین.